محمد مشیر سہارن پوری

شب جائے کہ من بودم

ارضِ قرآن پر جس شخص کو بھی حاضری کی سعادت حاصل ہوئی ہے، اس نے رودادِارض مقدس کو مختلف زاویے وپیرایےومتنوع لب و لہجہ میں قلمی جامہ پہنانے کی حتی الامکان سعی کی ہے،بہتوں نے سفرنامے تحریر کرکے لاکھوں روپے کی مالیت یکجا کی ہےتو کسی نے رودادِارض قرآن ومقدس بیان کرکے آنےوالی نسل کی رہنمائی فرمائی ہے، انہوں نے روپیے پیسوں میں رودادِارض نبی کو تولنےکی کوشش نہیں کی بلکہ انکےپیش نظر ارض قرآن پر نازل ہونےوالی یہ آیت بینہ "ومااسئلکم علیہ من أجر”پیش نظر رہی، اپنےاجر کو ارض مقدس کے خالق کےاجر عظیم پر قیاس کرتے ہوئےتوشہ آخرت بنا لیاہے…
"آغاشورش کاشمیری”بھی ایسے ہی بلندپایہ ادیب ہیں کہ جنہوں نے "شب جائے کہ من بودم”کےمتعلق لکھاہے کہ "میں نے یہ کہانی دل کے محسوسات اور روح کی کیفیات میں ڈوب کے لکھی ہے، یہ اس دربار کی روداد ہے جہاں جنید وبایزید کے حواس گم ہوجاتے اور شبلی وعطاء تکتے رہ جاتے ہیں”
مزید اسی کیفیت کو ان الفاظ سے تقویت بخشتے ہیں کہ "عشق بڑی نازک چیز ہے میں خاطی وعاصی انسان ہوں، خداجانے میرے قلم نے کہاں تک میرا ساتھ دیاہے بہرحال وہ مشاہدات اور تجلیات کون لکھ سکتاہے، جو کعبۃ اللہ اور مدینۃ النبی کی حاضری سے ملتی ہیں۔ جس طرح زم زم صدیوں سے ابل رہاہے اور اسکا پانی ختم نہیں ہوتا۔ اسی طرح بیت اللہ کی عظمت اور حرم نبوی کی نزاکت کےتذکرہ کی حد یا کنارہ نہیں۔ہم ایسے لوگ جو کچھ لکھتےاپنی بخشش کیلئے لکھتے ہیں ۔ اللہ اور رسول کے گھروں کو ہمارے قلم وزبان کی احتیاج نہیں حاجت مند ہم ہیں کہ انکے ذکر سے اپنی دنیا سنوارتے اور آخرت کا توشہ پاتے ہیں”
یہ سعادت ہےہی اس قابل کہ اس کیلئے ادیب دوراں وابن القلم بھی مافی الضمیر کو جنبش قلم دیتے ہوئے بےبسی کااظہارکرتے ہوئے نظر آتے ہیں،کیونکہ انسان دوقسم کےہیں ایک وہ جودیکھتےبولتےہیں، ایک وہ جودیکھتے اور سوچتے ہیں، لیکن ایک تیسری قسم بھی انسانوں میں پائی جاتی ہے، جو ارض مقدس میں آکرکھوجاتے ہیں، اس سحروسرورمیں فصاحت وبلاغت بےبس ہوجاتی ہیں، یہ وہ سرحد ہے جہاں الفاظ ومعانی اپناسفرختم کردیتے ہیں….
لیکن جب آپ "شب جائے کہ من بودم ” مطالعہ کررہےہوں تو آپکو محسوس ہوگا کہ ایسی اضطراری کیفیت کو بھی آغاصاحب کیسے تحریری جامہ پہناتے ہیں، الفاظ انکے پاس قطار درقطار لائن میں کھڑے نظر آتےہیں دیکھئے عرب پر لب کشائی کرتےہوئے کن حقائق سےروشناس کراتے ہوئے رودادِارض کیسے شروع کرتے ہیں "جدہ میں اب صرف دوچیزیں عرب ہیں ایک زبان دوسرے اذان ۔باقی ہرچیز پر یورپ کی چھاپ لگی ہوئی ہے، عربوں کا خاص لباس بھی یہاں مخلوط ہوگیاہے، قطع ہےوضع نہیں، وضع ہےقطع نہیں وضع کابھرم بھاؤ ہے تو قطع میں رکھ رکھاؤ نہیں ۔غرض عرب تو ہیں ہرقسم کےعرب، عاربہ بھی اور عرب مستعربہ بھی لیکن ارض قرآن کے عرب اب آب وگل کے نئےسانچہ میں ڈھل گئے ہیں۔ وہ طوفان سے کھیلنے والے عرب تھے، اور خود ایک طوفان تھے، یہ ساحل کے تماشائی عرب ہیں جو کنارہ پر کھڑے خود ایک کنارہ ہوگئےہیں ۔یہ کہنامشکل ہوگاکہ انکا ماضی سے کوئی رشتہ نہیں رہا لیکن یہ کہناغلط نہ ہوگاکہ انکاماضی ان سے محروم ہوچکا اور اس چراغ کی طرح ہوگیاہے جو یادوں کے مزار پر بھولی بسری لو دیتاہے”
آغاصاحب نے جدہ پیلس سے جدہ کی سڑکوں،شہرکی عمارتوں، سمندرکی لہروں اور سردِسہی جہازوں کانظارہ کیا، پھر یہ سوچ کرآغاصاحب نے آنکھیں بند کرلیں کہ یہ حسن مقامی رنگ کےسواہرجگہ ہے مجھے وہ حسن تلاش کرناچاہیے جو مجھے یہاں کھینچ لایا اور میرے معبد میں سلگتارہاہے جسکی میں نے اپنے عشق کےگہوارہ میں کنواری حیا کی طرح نگہداشت کی ہے، لیکن آنکھیں بند کرلینےسےحقیقتیں نہیں ٹلا کرتیں،آغا صاحب کے محسوسات اندر ہی اندر مضطربانہ کروٹے لےرہےتھے، کبھی کروٹ لیتے لیتے عرب کے اندر عربوں کے متلاشی نظرآتےتے ہیں مگر تلاشِ بسیار کےبعد ناکامی پر بایں الفاظ اشک بہاتے ہیں کہ "سعودی حکومت نے عہدرسالت مآب کے آثارصحابہ کرام کے مظاہر اور اہل بیت کے شواہد اس طرح مٹادئیےہیں کہ جو چیزیں ڈھونڈھ ڈھونڈھ کر محفوظ کرنی چاہئے تھیں وہ ڈھونڈھ کر محوکردی گئی ہیں، کہیں کوئی کتبہ یانشان نہیں، لوگ بتاتے اور ہم مان لیتے ہیں حکومت کے نزدیک ان آثارونقوش اور مظاہر ومقابر کا باقی رکھنا بدعت ہے، عقیدہ توحید کےمنافی ہےسنت رسول کے خلاف ہے لیکن عصرحاضرکی ہرجدت جدہ ہی میں نہیں پورے حجاز میں موجود ہے بلکہ بڑھ پھیل رہی ہے کیا قرآن وسنت کا اطلاق اس پر نہیں ہوتا؟ شاہ فیصل کی تصویریں ہوٹلوں میں لٹک رہی ہیں، انہیں حکومت نےخودمہیاکیاہے ایئرپورٹ پر اترتے ہی شاہ فیصل کی تصویر نظر پڑتی ہے، قہوہ خانوں اور ریستورانوں میں ان تصویروں کی بہتات ہے لیکن اس میں کوئی بدعت نہیں! بدعت اسلاف کی یادیں بنانے اور باقی رکھنے میں ہیں؟
سعدبن ابی وقاص رضی اللہ عنہ ایران کے فاتح تھے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوا کہ انہوں نے کوفہ میں ایک محل بنوایا ہے محمدبن مسلمہ کو حکم دیا جاؤ اور اس محل کو آگ لگادو خارجہ بن حذاف کے مصر میں دومنزلہ مکان بنایا حضرت عمر فاروق نے مصر کےگورنر عمربن عاص رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ دوسری منزل فوراً گرادو اس سے ہمسایوں کی پردہ دری ہوتی ہے ۔”
آغاصاحب! عکس بندی کرنے میں اپنی مثال آپ ہیں
مثلاً بیت اللہ کا عکس بایں طور بیان کرتے ہیں کہ” بیت اللہ مکہ مکرمہ کےنشیب میں اس طرح ہے جس طرح نون کےوسط میں نقطہ یا کٹورے کی تہہ کا دائرہ اس نشیب کو مسجد الحرام نے آغوش میں لےرکھاہے اور مسجد الحرام کے چاروں طرف پہاڑ کھڑے ہیں پہاڑوں کا یہ سلسلہ دور تک چلاگیا ہےمسجد الحرام کے تین پرت ہیں دو اب تیار ہوئے ہیں ____کچھ حصہ___ابھی بن رہاہے ۔پہلےپتھر باہر سے آتاتھا اب حجاز کی پہاڑیوں سے قدرے سفید، قدرےسبزاورقدرے سرخ پتھر کی سیلیں نکلی ہیں جنہیں مسجد الحرام کو پھیلانے اور بڑھانے میں لگایا جارہاہے…………..
وسط میں بیت اللہ ہے، ایک مستطیل عمارت 45فٹ اونچی__44فٹ شمالاً وجنوباً اور شرقاً وغرباً 23فٹ! تاریخ اور عقیدے کے مطابق اسکی تعمیر متعدد بار ہوئی ہے، لیکن اسکی نہاداول ابراہیم علیہ السلام نےرکھی اور آخری نہاد آخری رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے……….. ”
مزید تاریخی حقائق پر روشنی ڈالتے ہیں کہ
” عقیدہ کی روایت ہےکہ پانی نےزمین کی شکل اختیار کی تو سب سے پہلے زمین کاجو ٹکڑا وجود میں آیا فرشتوں کےٹھیک اسی جگہ تحت الثری پر خانہ کعبہ کی بنیاد استوار کی، دوسری روایت ہےکہ ہبوط آدم سے کئی ہزارسال پہلے فرشتوں نےاسے تعمیر کیا، ایک روایت کے مطابق اللہ تعالیٰ کے لفظ کن سے اسکی تعمیر ہوئی جب آثار محوہوگئےتو آدم علیہ السلام نے جبرئیل کی نشاندہی پر اسکی نیو اٹھائی ۔… ”
مکہ مکرمہ کے تاریخی مقامات کی نشاندہی کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ” مکہ کا چپہ چپہ تاریخی ہےلیکن جو چیز محفوظ نہیں کی گئی وہ تاریخ ہی ہے_بیت اللہ کے علاوہ کوئی مسجد اپنی روایتوں کےمطابق محفوظ نہیں بعض جگہ لیپاپوتی کی گئی ہے لیکن واجبی! مسجدالرایہ، مسجدالجن،مسجدحنیف، مسجد عقبی وغیرہ قرآن کےنزول اور اللہ کے رسول کی نشانیاں ہیں لیکن انہیں کوئی شاہجہاں یااورنگزیب نہیں ملا… ”
آغاصاحب مسجد نبوی میں حاضری پر لب کشائی کرتے ہوئے کہ بیت اللہ میں جلال ہی جلال تھا، مسجد نبوی جمال ہی جمال، معلوم ہواجیسےکوئی آغوش کھل گیاہوفخرومسرت کا ایک عجیب احساس طاری ہوگیا باب عمر باب مجیدی اور باب عثمان سے باہرکافرش جو ہر سہ دروازوں کےسامنے بچھاہواہے وہاں تمام دن کبوتروں کی ٹکڑیاں اڑتی اوربیٹھتی ہیں یہاں بدؤوں کے بچے گیہوں کے لفافے لیےصدادیتے ہیں، عقیدت مند لفافے خریدکر دانے بکھیردیتے ہیں کبوتر اڑ اڑکےدانے چنتے اور رہ رہ کر چکرکاٹتےہیں ہمارے ہاں انسانی ہاتھ کے خدشہ کبوتر اترتےہوئے ہچکچاتے ہیں لیکن یہاں انہیں کوئی خدشہ نہیں وہ آپ کے پاس اڑتے پھرتےاورچنتے ہیں انکی طرف بڑھیں تو وہ پرواز کا دائرہ بنتے اور پھریری لیتے ہیں ”
مسجد نبوی کی عکس بندی بایں الفاظ کرتے ہیں کہ” اس وقت مسجد نبوی کی شکل یہ ہےکہ دس ایکڑ کےرقبہ میں ایک مستطیل عمارت ہے باب عمر، باب مجیدی یا باب عثمان سے داخل ہوں تو پہلاحصہ چھتاہواہے فرش سنگ مر مر کاہے اور اس پر قالین بچھے ہوئےہیں، دوسرا حصہ صحن کی شکل میں کھلا ہے بیچ میں سنگ مر مر کی روش ہے دوطرف کھلاصحن ہے جہاں کنکریاں ڈلی ہوئی ہیں اور یہ غالباً سنت نبوی کے اتباع میں ہے، حضور نےمسجد نبوی کی بنیاد رکھی تو اس وقت کچی اینٹوں کی دیواریں، برگ خرما کاچھپر اور کھجور کےستون تھے فرش خام تھا بارش میں کیچڑ ہوجاتی ایک دفعہ صحابہ نماز کیلئے آئے گو کنکریاں لیتے آئے اور اپنی نشست پر بچھالیں! حضور نے پسند فرمایااور سنگریزوں کا فرش بنوایا، تیسرا حصہ بھی چھپاہوا ہے یہاں بھی قالین بچھائے گئے ہیں چوتھا حصہ بھی دوسرے حصے کی طرح ہے پانچواں مسجد نبوی کا ابتدائی حصہ ہے پہلے اسی حصہ کا نام مسجد نبوی تھا باب النساء اور باب جبرئیل کےدرمیان حجرہ فاطمہ کے المقابل مقصوہ شریف کی پشت پر کہ اسے اسطوانہ تہجد بھی کہتے ہیں، اصحاب صفہ کا چبوترہ ہے اور اس چبوترہ کی سیدھ پر روضہ اقدس کی عمارت ہے اس سارے حصہ کیں امہات المومنین کےگھر،صحابہ کےحجرے، نبی اکرم کےمنبر ومحراب، وفود سے ملاقات کی بیٹھک، اعتکاف کاگوشہ، اسطوانات رحمت ____ریاض الجنہ ،غرض رحمتوں، فضیلتوں، برکتوں اور عظمتوں کی پوری دنیا گتھی ہوئی ہے”
اس دوران آغاصاحب کےساتھ جوکچھ پیش آیا وہ سب انہوں قلمبند کردیا، وہ انکا مسجد نبوی کے ستون شمارکرکرکے کر سجدیں کرنا،پاکستانی شاہ دین سے ملاقات ہوجانا، سیداحمدکیساتھ عشائیہ کانظم ہونا مدینہ یونیورسٹی کےطلبہ کیساتھ علمی مجلس قائم ہونا وغیرہ وغیرہ،
اسی دوران آغاصاحب کی نظر مسجد نبوی میں قرآن کی تفسیر کامطالعہ کرتے ایک پاکستانی قادیانی پڑی تو عاشق رسول کیونکر اسکو برداشت کرسکتاتھا مع مکمل عملہ اسکو ارض مقدس سے باہر پھنکوادیا………
ایک عاشق رسول سے جو امید کی جاسکتی تھی سو اس نے وہ کردکھایا، آغا صاحب ارض مقدس سے روانہ ہوتے ہوئے سوچ میں گم ہوکر یوں گویاہوتےہیں کہ "جس قوم کا آغاز ہاجرہ (ام اسماعیل) سے ہواتھا اس قوم کا خاتمہ ام کلثوم (مصری مغنیہ) پر ہوگیا”
کتاب اپنے البیلےاندازسے قاری کو مسحور کردیتی ہےاسکو احساس تک نہیں ہوتاکہ کب "عذرہائےمن پذیر” سے ابتدا کرتاہے تو کب پی آئی اے کا طیارہ کراچی پہنچ جاتاہے-
آخرش قارئ کتاب بس یہی گویا ہوتاہے ھل من مزید؟
#محمدمشیرسہارنپوری

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے