Blog
کیا اسلام پسپا ہورہاہے؟
کیا اسلام پسپا ہو رہا ہے؟
یہ محض ایک عنوان نہیں، بلکہ ایک سوال ہے جو امتِ مسلمہ کے قلب و جگر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتا ہے— ایک ایسی گونج جو تاریخ کے صفحات پر لرزہ طاری کر دیتی ہے، ایک ایسا نوحہ جس میں درد بھی ہے اور ایک صدا بھی، جو وقت کی بے رحم آندھیوں میں سچائی کی مشعل روشن کیے ہوئے ہے۔
یہ گراں قدر کتاب، اس نابغۂ روزگار شخصیت کے رشحاتِ قلم کا حسین مرقع ہے، جسے دنیا مولانا نور عالم خلیل امینی رحمہ اللہ کے نام سے جانتی ہے۔ وہ اردو و عربی ادب کے افق پر ایک ایسا تابندہ ستارہ تھے، جس کی روشنی نہ صرف علمی و فکری محافل کو منور کرتی رہی، بلکہ امتِ مسلمہ کے زخموں پر بھی مرہم رکھتی رہی۔ دارالعلوم دیوبند کے عربی مجلّہ الداعی کے رئیس التحریر ہونے کے ناتے، انہوں نے جس طرح زبان و بیان کے جوہر دکھائے، وہ اپنی مثال آپ ہیں۔ ان کی تحریریں محض الفاظ کا مجموعہ نہیں، بلکہ ایک دعوت، ایک تحریک، ایک پیغام ہیں— ایک ایسی دستاویز جس میں امت کے درد و غم کی جھلک بھی ہے اور اس کا علاج بھی۔
یہ کتاب مولانا رحمہ اللہ کے ان منتخب ادبی شہ پاروں پر مشتمل ہے، جو مختلف جرائد، اخبارات اور مجلات میں شائع ہوکر مقبولِ عام و خاص ہو چکے ہیں۔ ان میں اردو ادب کی مٹھاس بھی ہے، اس کی جاذبیت بھی، سلاست و روانی بھی اور انشاپردازی کی وہ چاشنی بھی، جو قاری کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے۔
مگر یہ محض ادب نہیں— یہ دردِ دل کی سرگزشت ہے، یہ امتِ مسلمہ کے نشیب و فراز، زوال و عروج کی داستانِ الم انگیز ہے۔ جہاں ایک طرف ادبی شان کے ساتھ امت کی فکری، تہذیبی اور سماجی زبوں حالی کا نوحہ رقم کیا گیا ہے، وہیں دوسری طرف اس کے احیا کی راہیں بھی دکھائی گئی ہیں۔
کتاب کا آغاز جس عنوان سے ہوتا ہے، وہی اس کی روح کو نمایاں کرنے کے لیے کافی ہے: “خیر و شر کی معرکہ آرائی؛ جیت کس کی ہوگی؟” اس کے ذیل میں، عصری مسائل پر سیر حاصل گفتگو کی گئی ہے، جن میں چند عنوانات یہ ہیں:
امت مسلمہ آزمائشوں کے گرداب میں
طالبان سے پہلے اور بعد کی دنیا
اقوامِ متحدہ کی سیاست اور مسلمانوں کے خلاف عالمی سازشیں
یہ مباحث محض سطحی تجزیے نہیں، بلکہ ایسے حقائق ہیں جو ہر بیدار مغز قاری کو غور و فکر پر مجبور کر دیتے ہیں۔
کتاب میں مزید کئی بنیادی موضوعات پر روشنی ڈالی گئی ہے، جیسے:
اتحاد و اشتراک: ہماری تمام مشکلوں کے حل کی شاہ کلید
عراق میں شکست: مگر کس کی؟
فتح و شکست اور قانونِ الٰہی
فکری یلغار: مسلمانوں کو مذہب بیزار کرنے کی ہمہ گیر سازش
مولانا امینی رحمہ اللہ ایک مقام پر لکھتے ہیں:
“دشمن طاقتیں مسلمانوں کے ذہن و فکر کو مسخ کرنے، ان کی نسلوں کے قلوب و اذہان کو مغربی تصورات کے سانچے میں ڈھالنے، اور ان کی ثقافتی و فکری بنیادوں کو کھوکھلا کرنے میں شب و روز مصروف ہیں۔ نتیجتاً، مسلمان خود اپنے دین و تہذیب کو فرسودہ سمجھنے لگے ہیں اور مغرب کی اندھی تقلید کو نجات و ترقی کا واحد ذریعہ گرداننے لگے ہیں۔”
یہ کتاب امت کے لیے ایک آئینہ بھی ہے اور ایک پکار بھی۔ اس میں وقت کے فتنوں پر روشنی ڈالی گئی ہے، عصرِ حاضر کے اہم واقعات کو نبی اکرم ﷺ کی تعلیمات کی روشنی میں پرکھا گیا ہے، اور مسلم قیادت و عوام کو ان کے مقام و منصب کا احساس دلایا گیا ہے۔
مولانا مرحوم کے الفاظ آج بھی زندہ ہیں، اور وہ ہمیں جھنجھوڑ کر کہتے ہیں:
“حق ہمیشہ باقی رہے گا، باطل خواہ کتنا ہی چیخے، گرجے، چنگھاڑے— تاریخ گواہ ہے کہ آخرکار فتح حق ہی کی ہوتی ہے۔”
یہ کتاب محض ایک علمی سرمایہ نہیں، بلکہ ایک فکری رہنمائی بھی ہے۔ وہ دل جو امت کی زبوں حالی پر کڑھتے ہیں، وہ ذہن جو اس کی عظمتِ رفتہ کے راز کو سمجھنا چاہتے ہیں، اور وہ آنکھیں جو مستقبل کی راہوں کو دیکھنے کے لیے بے تاب ہیں— ان سب کے لیے یہ ایک قیمتی تحفہ ہے۔
مولانا نور عالم خلیل امینی رحمہ اللہ کی یہ کتاب، ان کی علمی و فکری میراث کا ایک درخشاں حصہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی خدمات کو قبول فرمائے، ان کے درجات بلند کرے، اور ہمیں ان کی فکر سے استفادہ کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
محمد مشیر سہارن پوری
Mashallah
Khush Rahe