Blog
کھول آنکھ زمیں دیکھ
دنیا کی وسعتیں ہمیشہ سے انسان کو حیرت میں ڈالتی رہی ہیں۔ ایک گوشہ چھوڑو تو دوسرا اپنی طرف کھینچتا ہے۔ کہیں فلک بوس عمارتیں تمدن کی کہانی سناتی ہیں، کہیں قدیم کھنڈرات ماضی کے قصے دہراتے ہیں، کہیں صحراؤں کی خاموشی میں وقت کا جمود محسوس ہوتا ہے، اور کہیں سمندروں کی بے کراں لہریں ازل سے جاری سفر کی شہادت دیتی ہیں۔ مگر یہ سب کچھ دیکھنے کے لیے ایک خاص نگاہ چاہیے—وہ نگاہ جو سطحی نہیں، جو محض نظاروں کی اسیر نہیں، بلکہ جو چیزوں کی روح تک پہنچے، ان کے ظاہر سے گزر کر ان کے باطن میں جھانکے، جو حقیقت کو دیکھے اور اس کا تجزیہ کرے۔
ابویحییٰ (ریحان احمد یوسفی) کی تصنیف “کھول آنکھ، زمین دیکھ” ایسی ہی ایک نگاہ کا عکس ہے۔ یہ ایک عام سفرنامہ نہیں، بلکہ ایک ایسی داستان ہے جو قاری کو محض راستوں، مقامات اور عمارتوں کی سیر نہیں کراتی، بلکہ اس کے شعور کے بند دریچوں کو کھولتی ہے، اس کے اندر تجسس کی ایک نئی دنیا آباد کرتی ہے۔
یہ کتاب مشرق و مغرب کے سات اہم ممالک کے مشاہدات اور تجربات پر مبنی ایک منفرد تحریر ہے۔ مگر یہ محض سیاحت کی روداد نہیں، بلکہ اس میں ایک دردمند دل کی وہ تڑپ شامل ہے جو اپنی قوم اور ملت کی پسماندگی پر نوحہ کناں بھی ہے اور اس کے بیدار ہونے کی خواہش مند بھی۔
مصنف خود اپنے اسفار کی نوعیت کو ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں:
“میں نے ان تمام اسفار میں ان ممالک کے قابلِ دید مقامات کو ایک سیاح کی نظر سے اور وہاں کے نظامِ زندگی اور تہذیب کو ایک طالب علم کے طور پر دیکھا۔ ہر خوبی کی بلا تعصب تعریف کی اور ہر قابلِ تنقید چیز کو نشانہ بنایا۔ ہر جگہ ایک دردمند دل کے ساتھ اپنی قوم اور ملت سے اغیار کا موازنہ بھی کیا۔ ساتھ میں مغربی فکر و تہذیب کی کمزوریوں اور دینِ اسلام کی فکری قوت کو بھی ہر مقام پر نمایاں کیا۔”
یہ اقتباس گویا اس کتاب کا نچوڑ ہے۔ یہ محض ایک سیاح کی روداد نہیں، بلکہ ایک محقق کا تجزیہ ہے، ایک مصلح کی پکار ہے، ایک درویش کی دعا ہے اور ایک عالم کی نگاہ ہے۔
کتاب کا آغاز سری لنکا کے سفر سے ہوتا ہے، جو “کینیڈا براستہ سری لنکا” کے عنوان سے معنون ہے۔ ایک عام قاری شاید یہ سمجھے کہ یہ ایک عام سفرنامہ ہوگا، مگر جیسے ہی وہ چند صفحات آگے بڑھتا ہے، وہ محسوس کرتا ہے کہ یہاں منظرنامہ کچھ اور ہے۔
یہاں سفر صرف جغرافیے کا نہیں، بلکہ ایک ذہنی اور فکری ارتقاء کا بھی ہے۔
یہاں مصنف اپنوں کی مکاریوں کا پردہ بھی چاک کرتے ہیں اور غیروں کے اخلاق و معاملات کی خوبیاں بھی بیان کرتے ہیں۔ مگر ان کا انداز وہ نہیں جو محض تنقید برائے تنقید ہو، بلکہ وہ ایک معالج کی طرح مسئلے کی نشاندہی کرتے ہیں اور اس کا حل بھی تجویز کرتے ہیں۔
کتاب کا ایک واقعہ جو دل میں اتر جانے والا ہے۔
یہ ایک ایسے سفید فام شخص کی کہانی ہے جو کسی آزمائش میں مبتلا ہو کر جسمانی اور ذہنی مشکلات میں گھِر چکا تھا۔ بیماری کے دنوں میں وہ بے یار و مددگار تھا، رہائش اور خوراک کے لیے پریشان تھا، چھے سات مہینے بسترِ علالت پر پڑا رہا، اور پھر ایک دن ایک پاکستانی مسلمان نے اس کی مدد کا بیڑا اٹھا لیا۔ چھ مہینے تک اس کے تمام اخراجات برداشت کیے، کئی ہزار ڈالر اس پر خرچ کر دیے، مگر جب وہ صحت یاب ہوا اور قرض لوٹانے آیا، تو اس مسلمان نے لینے سے انکار کر دیا۔
یہ اسلامی ہمدردی کا ایسا عملی نمونہ تھا جو دلوں میں جاگزیں ہو جاتا ہے۔ اس شخص پر اس قدر اثر ہوا کہ اس کے بعد جب بھی کوئی پاکستانی اس سے ملتا، وہ اس کے ساتھ غیر معمولی محبت اور خلوص کا مظاہرہ کرتا، بلکہ اپنی زندگی میں آنے والے ہر پاکستانی کی مدد کرنے کو اپنا فرض سمجھنے لگا۔
یہی وہ کردار تھا جس نے قرنِ اولیٰ کی یاد تازہ کر دی۔ یہی وہ اخلاقی طاقت تھی جس کے سامنے دنیا کی بڑی بڑی طاقتیں سرنگوں ہو جاتی تھیں۔
“آج بھی جو ہو ابراہیم سا ایماں پیدا
آگ کر سکتی ہے اندازِ گلستاں پیدا”
مگر مسئلہ یہی ہے کہ ہم صرف ماضی کو پڑھتے ہیں، مگر اس پر عمل نہیں کرتے۔ جن لوگوں نے ہمارے ماضی سے سیکھا، وہ آگے بڑھ گئے، اور ہم پستی کی کھائی میں جا گرے۔
یہ کتاب چھ ابواب پر مشتمل ہے، اور ہر باب ایک نئی دنیا کا دروازہ کھولتا ہے:
1. کینیڈا براستہ سری لنکا – ایک دلچسپ آغاز جو قاری کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔
2. ٹورنٹو میں ابتدائی ایام – ایک اجنبی دنیا میں قدم رکھنے کا تجربہ۔
3. امریکہ کی جنتِ ارضی کا سفر – مغرب کے معاشرتی، ثقافتی اور فکری پہلوؤں پر گہری نظر۔
4. کینیڈا: لوگ، حالات اور زمین – ایک ایسی سرزمین جہاں زندگی کا ایک نیا فلسفہ نظر آتا ہے۔
5. خاکِ مدینہ و حرم – عشق و عقیدت کی وہ سرزمین جس کی خاک بھی متاعِ جاں ہے۔
6. سنگاپور، ملیشیا اور تھائی لینڈ کا سفر – مشرقی اور مغربی دنیا کے امتزاج کا ایک حیران کن مشاہدہ۔
یہ محض ایک جغرافیائی سفر نہیں، بلکہ ایک فکری سفر بھی ہے۔
یہاں تاریخ و جغرافیہ کم ہے، اور تجزیہ اور دعوت زیادہ ہے۔ یہاں ہر منظر کے پیچھے ایک سوچ کارفرما ہے، ہر واقعہ کے اندر ایک پیغام ہے۔ مصنف کا قلم صرف دیکھتا نہیں، سوچتا ہے، اور پھر قاری کو بھی سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔
“کھول آنکھ، زمین دیکھ” ایک ایسی کتاب ہے جو قاری کو اپنے ماضی، حال اور مستقبل پر نظر ڈالنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ یہ ایک ایسا آئینہ ہے جس میں ہر پڑھنے والا خود کو دیکھ سکتا ہے۔ یہ ایک ایسی صدا ہے جو ہمارے دلوں میں سوئے ہوئے شعور کو بیدار کرتی ہے۔
یہ محض ایک سفرنامہ نہیں، بلکہ ایک دعوت ہے، ایک فکر ہے، ایک التجا ہے کہ ہم جاگ جائیں، ہم اپنی کھوئی ہوئی منزل کو پھر سے تلاش کریں، ہم وہی بن جائیں جو کبھی ہمارا مقام تھا۔
یہ کتاب صرف ایک بار نہیں، بار بار پڑھنے کے لائق ہے۔ اللہ کرے کہ ہم اس کے پیغام کو سمجھ سکیں، اور اپنے حال کو بدل سکیں۔
محمد مشیر سہارنپوری